ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / وارڈوں کی از سر نو حد بندی ممکن، انتظامی امور کو سہل بنانے کے لئے بی بی ایم پی کی تقسیم بھی متوقع

وارڈوں کی از سر نو حد بندی ممکن، انتظامی امور کو سہل بنانے کے لئے بی بی ایم پی کی تقسیم بھی متوقع

Fri, 26 Apr 2019 23:20:28    S.O. News Service

بنگلورو،26/اپریل(ایس او نیوز) لوک سبھا انتخابات کی تکمیل کے فوری بعد اگلے سال اگست میں منعقد ہونے والے بی بی ایم پی انتخابات کے پیش نظر وارڈوں کی از سر نو حد بندی کے عمل کا آغاز کردیاگیا ہے۔ اس خصوص میں ڈپٹی کمشنر کی تجویز کے مطابق محکمہئ شہری ترقیات کے کئی اجلاس منعقد ہوئے ہیں اور اگلے ماہ سے عملی کارروائی کا آغاز ہونے والا ہے۔ 2010 میں بی بی ایم پی انتخابات کے موقع پر مردم شماری کا عمل مکمل نہ ہونے کے سبب وارڈوں کی از سر نو حد بندی کے بغیر ہی انتخابات کرائے گئے تھے۔ 2011کی مردم شماری کے بعد 2015میں بھی مردم شماری کے مطابق انتخابات نہیں کرائے گئے۔ اب 2020کے انتخابات قریب ہیں، ایسے میں وارڈوں کی از سر نو حد بندی کا آغاز ہونے والا ہے۔ موجودہ 198 وارڈوں کو برقرار رکھتے ہوئے 2011کی مردم شماری کے مطابق ہر 40 ہزار کی آبادی پر ایک وارڈ تشکیل دیاجاسکتا ہے۔ جن وارڈوں میں زیادہ ووٹرس ہیں انہیں کم ووٹروالے وارڈوں میں ضم کرنے کے ذریعے عدم توازن کو دور کیا جائے گا۔ جیسے ہورا ماؤ وارڈ میں 97ہزار ووٹر ہیں تو مارپنا پالیہ میں صرف 23ہزار ووٹر ہیں۔ جس کے پیش نظر تمام 198 وارڈوں میں عدم توازن کو دور کرتے ہوئے 40ہزار کی آبادی پر ایک وارڈ تشکیل دیاجاسکتا ہے۔ بی بی ایم پی کمشنر منجوناتھ پرساد نے بتایاہے کہ موجودہ 198 وارڈوں کو برقرار رکھتے ہوئے وارڈوں کی از سر نو حد بندی کی جائے گی، جس سے وارڈوں کی تعداد میں اضافہ بھی ممکن ہے۔ بی بی ایم پی کی حدود میں آباد میں بے تحاشہ اضافہ ہورہاہے، 2011 کی مردم شماری کے مطابق وارڈوں کی تعداد میں کم از کم دس فیصد اضافہ کرنے کی الیکشن کمیشن نے حکومت سے درخواست کی ہے۔ 2011کی مردم شماری کے مطابق شہر کی آبادی 88لاکھ تھی، اب یہ تعداد 1.39کروڑ ہوگئی ہے۔ ایسے میں الیکشن کمیشن نے مشورہ دیا ہے کہ 198وارڈوں کو برقرار رکھتے ہوئے مزید 20 وارڈوں کا اضافہ کیا جائے۔ حکومت نے بھی اس مشورے کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ 2015 میں بی بی ایم پی انتخابات کے موقعے پر تب کے وزیراعلیٰ سدرامیا نے 800کلومیٹر طویل شہر بنگلور کو انتظامی امور کے پیش نظر تین تا چار حصوں میں تقسیم کرنے کی پہل کی تھی۔ جس کے لئے وظیفہ یاب چیف سکریٹری بی ایس پاٹل کی قیادت میں سہ رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی۔ جس نے جائزہ لینے کے بعد مشورہ دیا تھاکہ انتظامی امور کو آسان بنانے کے لئے بی بی ایم پی کو تین تا چار حصوں میں تقسیم کیا جائے، مگر چند وجوہات کی بناء پر اس فیصلے پر عمل نہیں کیاگیا اور 2015کے انتخابات پورے ہوئے۔ اب جبکہ دوبارہ انتخابات کا مرحلہ قریب ہے بی بی ایم پی کی تقسیم کا معاملہ دوبارہ ابھر سکتا ہے۔ اس سے پہلے جب بنگلور سٹی کارپوریشن کو بی بی ایم پی کے طور پر ترقی دی گئی تھی تب کے وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی تھے۔ اب جب کہ خود کمار سوامی وزیراعلیٰ منتخب ہوئے ہیں، وہ ایک بار پھر بی بی ایم پی سے متعلق ٹھوس فیصلہ لے سکتے ہیں جس کے مطابق وارڈوں کی از سر نو حد بندی کے ساتھ بی بی ایم پی کی تقسیم بھی ممکن ہے۔ 


Share: